Cherreads

Blood on the moon

Saba_Kainat_7050
7
chs / week
The average realized release rate over the past 30 days is 7 chs / week.
--
NOT RATINGS
285
Views
VIEW MORE

Chapter 1 - Blood on the moon

(مصنف نام: صباء راجپوت)

حویلی کی پرانی دیواروں پر چاند کی سرخ روشنی کسی بہتے ہوئے خون کی طرح پڑ رہی تھی۔ فضا میں پرندوں کی چیخیں ایک عجیب خوف پیدا کر رہی تھیں۔ زریاب بالکونی میں کھڑا اپنی سگریٹ کا دھواں فضا میں چھوڑ رہا تھا، مگر اس کی نظریں سامنے والے قدیم قبرستان پر تھیں۔

زریاب: "فارس، کیا تم نے محسوس کیا؟ آج ہوا میں مٹی اور سڑاند کی بو ہے۔ جیسے کوئی قبر کھلی ہو۔"

فارس (پریشانی سے): "ہاں یار، اور یہ لال چاند... اسے دیکھ کر میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے حویلی کی دیواریں ہم پر گرنے والی ہیں۔"

زوہا (ہانپتے ہوئے آئی): "بھائی! جلدی آئیں! ماہا کے کمرے کا درجہ حرارت اچانک برف جیسا ٹھنڈا ہو گیا ہے، اور وہ کسی انجان زبان میں باتیں کر رہی ہے۔"

حصہ دوم: آئینے کا راز (Mystery)

زریاب بھاگتا ہوا ماہا کے کمرے میں پہنچا تو وہاں کا منظر دیکھ کر اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ ماہا اپنے عروسی لباس میں آئینے کے سامنے کھڑی تھی، مگر آئینے میں اس کا عکس اس کی طرف پیٹھ کر کے کھڑا تھا۔

زریاب (آگے بڑھ کر): "ماہا! میری طرف دیکھو! یہ کیا ہو رہا ہے؟"

ماہا (سرگوشی میں): "وہ آ گیا ہے، زریاب... وہ جو صدیوں سے بھوکا تھا۔ وہ تمہاری نسل کا خون مانگ رہا ہے۔"

چچا رحمت (اچانک سائے سے نمودار ہوئے): "اسے مت چھونا زریاب! یہ اب ماہا نہیں رہی۔ اس گھر کی بنیادوں میں چھپا راز اب باہر نکل آیا ہے۔"

زوہا: "چچا! آپ کے کپڑوں پر یہ کالے دھبے کیسے ہیں؟ اور آپ کے ہاتھ میں یہ پرانی کتاب کیسی ہے؟"

حصہ سوم: چچا کا بھیانک روپ (The Reveal)

اچانک پوری حویلی میں تیز ہوا چلنے لگی اور تمام شمعیں بجھ گئیں۔ اندھیرے میں چچا رحمت کا چہرہ کسی بھیڑیے کی طرح چمکنے لگا۔ فارس نے ٹارچ جلائی تو دیکھا کہ چچا رحمت ایک دائرے میں کھڑے کوئی جادوئی کلمات پڑھ رہے تھے۔

فارس: "زریاب، دیکھو! چچا رحمت ہی اس سب کے پیچھے ہیں۔ یہ ہمیں قربان کرنا چاہتے ہیں!"

چچا رحمت (وحشیانہ ہنسی): "اس حویلی کی دولت ایک خونی معاہدے پر ٹکی ہے، فارس۔ ہر سو سال بعد ایک دلہن کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ آج ماہا کی باری ہے!"

زریاب: "میری زندگی جیتے جی آپ اسے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے۔ یہ میرا عشق ہے، کوئی کھیل نہیں!"

حصہ چہارم: محبت کی جنگ (Romantic/Horror)

چچا رحمت نے خنجر اٹھایا اور ماہا کی طرف بڑھے، لیکن زریاب نے چھلانگ لگا کر انہیں روک لیا۔ کمرے میں موجود فرنیچر خود بخود اڑنے لگا۔ زوہا اور فارس نے مل کر زریاب کی مدد کرنے کی کوشش کی لیکن ایک نادیدہ قوت نے انہیں دیوار سے پٹخ دیا۔

ماہا (ہوش میں آتے ہوئے): "زریاب! پیچھے ہٹ جاؤ، یہ تم پر وار کریں گے!"

زریاب (خون آلود چہرے کے ساتھ): "اگر آج ہماری موت بھی لکھی ہے، تو میں تمہارے ساتھ مرنا پسند کروں گا۔ میری محبت اس شیطانی طاقت سے بڑی ہے۔"

زوہا: "بھائی! وہ کتاب چھین لیں! ساری طاقت اس پرانی کتاب میں ہے!"زریاب نے پوری طاقت سے چچا کے ہاتھ سے وہ کالی کتاب چھینی اور قریب جلتے ہوئے الاؤ میں پھینک دی۔ کتاب جلتے ہی ایک ہولناک چیخ گونجی اور چچا رحمت دھوئیں کی طرح غائب ہو گئے۔ باہر آسمان پر چاند کی سرخی ختم ہوئی اور سفید روشنی پھیل گئی۔

فارس (سانس بحال کرتے ہوئے): "وہ... وہ کیا تھا؟ کیا چچا کبھی انسان تھے بھی یا نہیں؟"

زریاب (ماہا کو گلے لگاتے ہوئے): "وہ جو بھی تھا، اب ختم ہو گیا۔ تم محفوظ ہو ماہا، ہماری محبت نے اس منحوس رات کو شکست دے دی۔"

ماہا: "زریاب، مجھے لگا میں آپ کو کھو دوں گی۔ اس چاند نے ہمیں ہمیشہ کے لیے جوڑ دیا۔"

زوہا: "اب ہمیں یہ حویلی ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینی چاہیے۔ یہاں کی مٹی میں اب بھی خون کی مہک ہے۔"خاتمہ: ادھورا سچ (The Epilogue)

مقام: ایک نیا شہر، ایک نیا گھر

وقت: خونی رات کے ایک سال بعد

حویلی چھوڑنے کے بعد زریاب اور ماہا ایک نئے شہر میں منتقل ہو گئے تھے۔ زندگی بظاہر پرسکون تھی، لیکن کچھ یادیں پیچھا نہیں چھوڑتی تھیں۔

زریاب (ماہا کو کافی دیتے ہوئے): "آج تم بہت خاموش ہو ماہا؟ کیا پھر سے وہی پرانے خواب دیکھ رہی ہو؟"

ماہا (کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے): "زریاب، آج پھر چاند کی رنگت کچھ بدلی بدلی سی ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ چچا رحمت کا وہ قصہ اتنی آسانی سے ختم نہیں ہو سکتا تھا؟"

زوہا (کمرے میں داخل ہوتے ہوئے): "بھائی! ابھی ابھی فارس کا فون آیا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اس پرانی حویلی کے ملبے سے وہ کالی کتاب نہیں ملی، جو آپ نے جلائی تھی۔ وہاں صرف راکھ ہے، لیکن کتاب غائب ہے۔"

زریاب کے ہاتھ سے کافی کا مگ چھوٹ کر گر گیا۔ اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی۔

فارس (دروازے پر، ہانپتے ہوئے): "زریاب! دروازہ مت کھولنا! میں نے ابھی ابھی چچا رحمت کو گلی کے نکڑ پر دیکھا ہے... وہ بالکل ویسے ہی لگ رہے تھے، جیسے اس رات تھے۔"

ماہا (آئینے کی طرف دیکھتے ہوئے): "زریاب... آئینے میں دیکھو!"

زریاب نے مڑ کر دیکھا تو آئینے میں ماہا کے عکس کے پیچھے چچا رحمت کا سایہ کھڑا مسکرا رہا تھا۔

چچا رحمت کی آواز (کمرے میں گونجی): "خون کا رشتہ کبھی نہیں جلتا، زریاب۔ میں تمہارے اندر زندہ ہوں۔

(ختم۔شدہ)

(Season 2 Up coming)

___________________💝__________________